Pakistan
اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا۔ عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ دونوں کو تنہائی میں نہ رکھا جائے اور جیل قوانین کے مطابق ملاقاتیں اور سہولیات فراہم کی جائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ دونوں شخصیات کو تنہائی میں نہ رکھا جائے اور جیل کے قوانین کے مطابق تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ یہ فیصلہ جسٹس خادم حسین سومرو نے سنایا، جس پر فیصلہ 6 اگست کو محفوظ کیا گیا تھا۔ عدالت نے بیگم نصرت بھutto اور بیگم شمیم آفریدی کیسز کے اصولوں کی روشنی میں ان درخواستوں کو سماعت کے لائق قرار دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان جیل قوانین کے مطابق ملاقات کرائی جائے۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو بھی جیل قوانین کے تحت ان سے ملنے کی اجازت دی جائے اور ان کے اپنے بیٹوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے انتظامات بھی کیے جائیں۔ تاہم، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ان ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ فون کالز واپس لے لی جائیں گی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ جیل حکام عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتب فراہم کریں اور انہیں جیل کےروایتی قوانین کے مطابق طبی سہولیات بھی دی جائیں۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بشریٰ بی بی کو تنہائی میں نہ رکھا جائے اور اس حوالے سے 15 دنوں کے اندر عمل درآمد رپورٹ عدالت میں جمع कराई جائے۔ یہ درخواستیں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو طویل عرصے سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جس سے انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، حکومت اور اڈیالہ جیل حکام نے عدالت میں اس مؤقف کی تردید کی تھی کہ دونوں کو تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے الگ رکھا گیا ہے اور انہیں بی کلاس قیدیوں سے زیادہ سہولیات دی جا رہی ہیں۔ جیل حکام کے مطابق عمران خان کو ایک سیل تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں سات سیلز پر مشتمل احاطے تک رسائی حاصل ہے جہاں وہ دن کے وقت چہل قدمی کر سکتے ہیں۔