World
نیپال اور چین میں سیلاب سے ایک ہزار سے زائد اموات، عالمی امداد کا مطالبہ
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں مجموعی اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپالی وزیراعظم نے اس المناک سانحے کو موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
چین اور نیپال کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق نیپال میں اب تک کم از کم 987 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس سے اس دلخراش سانحے میں کل اموات کی تعداد 1003 ہو گئی ہے۔ ریسکیو آپریشنز کو ساتواں روز شروع ہو چکا ہے اور حکام کے مطابق ملبے سے مزید لاشیں نکالی جا رہی ہیں، جبکہ نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم دونوں ممالک میں ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال اور چین میں لاپتہ ہونے والے افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی بھی شامل ہے جن کا تعلق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں بھارتی شہریوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جبکہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور کئی یورپی اور ایشیائی ممالک کے شہری بھی اس آفت کی زد میں آئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کی اتر پردیش ریاست کے حکام نے نیپال سے آنے والے دریاؤں سے مزید لاشیں برآمد کی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سیلاب کا شکار ہوئے تھے۔ اس تباہ کن صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیپالی وزیراعظم بلیندرا شاہ نے کہا ہے کہ ہمالیائی خطے میں آنے والا یہ سیلاب کوئی عام واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ رسواوا کے مقام پر بھوٹے کوشی دریا میں آنے والا سیلاب اس خطے کی تاریخ کے بڑے آفات میں سے ایک تھا جو کہ ہمالیائی خطے میں برف اور گلیشیئرز کے تودے گرنے کی وجہ سے آیا۔ وزیراعظم نیپال نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نیپال اس مسئلے کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اٹھائے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حد توثیق کا شکار ہونے والے غریب ممالک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے بھی اس واقعے کو پہاڑی ماحول کی انتہائی نزاکت کا ایک ہولناک انتباہ قرار دیا ہے۔ اس دوران نیپالی ریسکیو ٹیموں نے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لیے عارضی پلوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور پن بجلی کے منصوبوں کے کھنڈرات سے پھنسے ہوئے ورکرز کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم شاہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے اب تک 11 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے جبکہ کئی مقامات پر بجلی اور مواصلاتی رابطے بھی بحال کر دیے گئے ہیں۔ ہمسایہ ممالک بھارت اور چین سمیت مختلف عالمی اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد پہنچ چکی ہے اور حکومت کو مزید امداد کی توقع ہے۔