Pakistan
لکی مروت میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، دو دہشت گرد ہلاک
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس اور سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاعات پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والا ایک دہشت گرد بم دھماکوں سمیت دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں مطلوب تھا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاعات پر مبنی تھی جو لکی سٹی پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک پہاڑی علاقے میں کی گئی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے ترجمان قدرت اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ آپریشن پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
بیان کے مطابق جب سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانے کو گھیرے میں لیا تو ایک شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ دونوں جانب سے کافی دیر تک گولیاں چلتی رہیں جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت مبشر کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو بم دھماکوں سمیت دہشت گردی کے متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ تاہم، دوسرے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کا عمل فی الحال مکمل نہیں ہو سکا ہے اور اس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے لکی مروت پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو اس کامیاب اور نتیجہ خیز آپریشن پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ آئی جی پی نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ صوبے سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کا یہ علاقہ اور مجموعی طور پر صوبہ طویل عرصے سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سیکیورٹی رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں نمایاں تیزی کر دی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ ایسے ٹارگٹڈ آپریشنز سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے میں بڑی مدد مل رہی ہے اور ریاست ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔