LIVE
Loading Breaking News...

سندھ ہائیکورٹ کا ڈی ایچ اے تشدد کیس میں متاثرہ خاندان کو تحفظ کا حکم

News Image
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں پیش آنے والے تشدد کے واقعے کے متاثرہ خاندان کو فوری طور پر پولیس تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ متاثرہ فیملی کی جانب سے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کے دوران دیا۔
کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں پیش آنے والے ہلاکت خیز اور ہنگامہ خیز تشدد کے واقعے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس کیس کے متاثرہ خاندان اور اس کے بھائی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پولیس کو فوری طور پر متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک خاتون کو ڈمبل کے ذریعے نور نامی شخص پر حملہ کرتے اور ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ واقعے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ متاثرہ خاندان اور ان کے وکلاء نے اس واقعے کے تناظر میں ان کے خلاف درج کی جانے والی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اصل متاثرین ہونے کے باوجود ان کے خلاف ہی قانونی کارروائی اور دباؤ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ عدالت عالیہ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھانے اور متاثرہ خاندان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ اس واقعے نے کراچی کے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، بالخصوص امرا کے علاقوں میں قانون کی عملداری اور سیکیورٹی فورسز کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بحث و تکرار کے دوران معاملہ پرتشدد شکل اختیار کر گیا اور خاتون نے مبینہ طور پر ڈمبل کا استعمال کرتے ہوئے حریف پر جان لیوا وار کیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے احکامات کی روشنی میں تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔