LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد میں بغیر ڈرائیور کی گاڑی پولیس وین سے ٹکرا گئی

News Image
اسلام آباد میں بغیر ڈرائیور کی ایک کار پولیس وین سے جا ٹکرائی جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ اسلام آباد پولیس نے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعہ کسی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طالب علم کی جانب سے نمائش کا حصہ تھا۔
اسلام آباد کی سڑکوں پر اس وقت ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جب ایک بغیر ڈرائیور کی کار اچانک حرکت میں آ گئی اور سامنے کھڑی اسلام آباد پولیس کی ایک وین سے جا ٹکرائی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک رپورٹر اس بے قابو گاڑی کو روکنے کے لیے ہینڈ بریک کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے اور سکیورٹی نیز ٹریفک کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا۔ واقعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی کہ آخر بغیر ڈرائیور کی گاڑی سڑک پر کیسے آ گئی۔ معاملے کی سنگین نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے فوری طور پر اس واقعے پر باضابطہ وضاحت جاری کی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ واقعہ یا حادثہ نہیں تھا جیسا کہ سوشل میڈیا پر تاثر دیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ ایک یونیورسٹی کے طالب علم کا پراجیکٹ یا سائنسی ڈیمو تھا جس کے دوران گاڑی کو تجرباتی طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ نمائش کے دوران گاڑی غیر ارادی طور پر آگے بڑھ گئی اور پولیس وین سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق اس دوران کسی قسم کا کوئی قانونی جرم یا قانون شکنی نہیں کی گئی، اس لیے عوام کو افواہوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بغیر ڈرائیور گاڑیوں کے تجربات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات یا مظاہرے پبلک مقامات یا کھلی سڑکوں پر کرنے سے پہلے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کرنے چاہئیں تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے یا ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ یونیورسٹی کے طلبا اور محققین کی طرف سے اس نوعیت کے تجربات سائنسی ترقی کے لیے تو اہم ہیں، لیکن حفاظتی پروٹوکولز کو نظر انداز کرنا پبلک سیفٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ نامکمل معلومات پر مبنی ویڈیوز کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی واقعے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے مستند ذرائع پر بھروسا کریں۔