LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس: جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اور اہم طلبیاں

News Image
مرحوم کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے ان کے کاروباری شراکت داروں اور دوستوں کو طلب کر لیا ہے۔ کمیشن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں مبینہ خامیوں پر سوالات اٹھائے ہیں اور کارروائی 3 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
مرحوم کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کمیشن نے میر رضا علی کے قریبی دوستوں اور کاروباری شراکت داروں کو طلب کر لیا ہے تاکہ اس کیس سے جڑے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ طلبیاں اس وقت عمل میں آئی ہیں جب کمیشن نے تفتیش کے دوران کئی اہم شواہد اور گواہوں کے بیانات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ تحقیقاتی کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پائی جانے والی مبینہ خامیوں اور کوتاہیوں پر بھی شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی طبی معائنے میں کچھ ایسے اہم نکات کو نظر انداز کیا گیا جو موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے انتہائی ناگزیر تھے۔ کمیشن اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا تحقیقاتی عمل میں جان بوجھ کر غفلت برتی گئی یا یہ تکنیکی نوعیت کی خامیاں تھیں۔ اس کے علاوہ، کیس کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک ڈیوائس آپریٹر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ مطلوبہ ڈیوائس یا دستاویزات پر فنگر پرنٹس (اعداد و شمار یا انگلیوں کے نشانات) بالکل بھی نہیں پائے گئے۔ اس انکشاف نے کیس کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ شواہد کی عدم موجودگی تفتیشی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان تمام اہم پیش رفتوں اور گواہوں کے بیانات کو ریکارڈ کرنے کے بعد جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کو عارضی طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کی آئندہ سماعت اب 3 ستمبر کو متوقع ہے جس میں مزید اہم شخصیات کی پیشی اور نئے شواہد سامنے آنے کا امکان ہے۔ لواحقین اور عوامی حلقے اس کمیشن کی کارروائی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق جلد از جلد عوام کے سامنے آ سکیں۔