LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پابندیاں اور ایران کا معاشی بحران: عوام کی مشکلات میں اضافہ

News Image
امریکہ کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے نتیجے میں عام ایرانی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت نے بیرونی پابندیوں کے باوجود معیشت سنبھالنے اور مفاہمت کے امکانات پر زور دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی دباؤ کے اثرات اب براہ راست عام شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تہران کی گلیوں اور بازاروں میں عوام کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کی بھینٹ اصل میں عام آدمی چڑھ رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کے تسلسل اور سختی کی وجہ سے درآمدات مہنگی ہو چکی ہیں اور اشیائے خوردونوش سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے متوسط طبقے کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود، ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ملک میں بیرونی کرنسی اور وسائل کے ذخائر اب بھی اس حد تک موجود ہیں کہ وہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔ تہران کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ اگر واشنگٹن اپنے پرانے وعدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہو جائے، تو ایران بھی دو طرفہ تعلقات اور معاہدوں کی پاسداری کے لیے فوری طور پر مثبت ردعمل دینے کو تیار ہے۔ صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ سفارت کاری کے دروازے اب بھی بند نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم، آزاد معاشی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ ایران کی معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے اور افراط زر کی شرح نے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ کرنسی کی قدر میں کمی اور بیرونی تجارت کی بندش نے ملکی صنعتوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بڑھتا ہوا اندرونی معاشی دباؤ تہران کی حکومت کو کسی بڑے سیاسی یا سفارتی سمجھوتنے پر مجبور کر دے گا یا پھر ایران متبادل معاشی حکمت عملی کے ذریعے اس طوفان کا رخ موڑنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ موجودہ بین الاقوامی تناظر میں خطے کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر چھوٹی بڑی پیش رفت کے براہ راست اثرات مشرق وسطیٰ کے امن اور عالمی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ عام ایرانی شہری اس کشمکش کے درمیان پس رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ سیاست دانوں کے درمیان بات چیت کا کوئی ایسا راستہ نکل آئے جو ان کی زندگیوں میں آسانی اور ریلیف کا باعث بنے۔ آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے رابطے ہی یہ طے کریں گے کہ معاشی محاذ پر کشیدگی میں کمی آتی ہے یا بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔