World
امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی
امریکہ نے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی جوابی کارروائی کے دوران ایرانی اہداف پر نئے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان تازہ کارروائیوں میں آبنائے ہرمز کے قریب موجود ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک موڑ اس وقت آیا جب امریکہ نے ایرانی اہداف کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ان تازہ ترین کارروائیوں کا مقصد خطے میں ایرانی عسکری تنصیبات اور اثاثوں کو کمزور کرنا ہے، جبکہ تہران کی جانب سے بھی ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اس وسیع ہوتے ہوئے تنازع نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکام نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ امریکی کارروائیوں میں آبنائے ہرمز کے قریب موجود ایرانی راکٹ لانچرز کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ کئی ہفتوں میں اس نوعیت کی پہلی براہ راست فوجی کارروائی ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم رستہ ہے، جہاں عسکری جھڑپیں پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کے بحران کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس دوران تہران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے امریکی جارحیت کے جواب میں میزائل داغے ہیں، اور وہ کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی اور سیاسی محاذ پر بھی تلخی عروج پر پہنچ چکی ہے، جہاں اعلیٰ ترین سطح پر ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالمی رہنما خطے میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں تاکہ صورتحال کو مکمل تباہی سے بچایا جا सके۔