Pakistan
پاکستان اور چین کے تعلقات، آئی ٹی اور زراعت میں تعاون کا فیصلہ
پاکستان اور چین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔
پاکستان اور چین نے اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو نئے مرحلے میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطوں اور پیش رفت کا مقصد دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کو عملی جامہ پہنانا ہے تاکہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھل سکیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید زرعی تکنیک کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا جائے۔ چین کے تعاون سے زراعت کے شعبے میں پیداوار بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان نوجوانوں کے باہمی روابط کو فروغ دینے کے لیے بھی مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔ نجی اور سفارتی سطح پر بھی پاک چین دوستی کو مزید نکھارنے کے لیے تقریبات اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جن کا مقصد دونوں قوموں کے عوام کو مزید قریب لانا ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور دیگر اداروں کی جانب سے اس سلسلے میں ریلیاں اور صفائی مہمات بھی منعقد کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے میں زراعت اور آئی ٹی کی شمولیت سے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ تعاون نہ صرف تکنیکی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ دونوں ممالک کی عوام کے درمیان قائم دوستی کے مضبوط رشتوں کو بھی مزید پائیدار بنائے گا۔