LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی ہسپتالوں میں ذہنی مسائل کے شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ

News Image
برطانیہ کے ہسپتالوں کے شعبہ حادثات و ایمرجنسی میں خودکشی کی کوشش، ذہنی تناؤ اور کھانے کی خرابی کے شکار کم عمر بچوں کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین صحت نے اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں ذہنی دباؤ، خودکشی کی کوششوں اور کھانے کی خرابی (ईटिंग डिसऑर्डर) جیسے سنگین مسائل میں مبتلا بچوں اور نوجوانوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے شعبہ حادثات و ایمرجنسی کے ذرائع کے مطابق، کم عمر مریضوں کی بڑھتی ہوئی یہ لہر اس بات کی غماز ہے کہ نوجوان طبقہ شدید ذہنی بحران کا سامنا کر رہا ہے اور انہیں بروقت طبی و نفسیاتی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکولوں کے ماحول، تعلیمی دباؤ اور دیگر سماجی عوامل کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صحت تیزی سے متاثر ہو رہی ہے، جو بعد ازاں ہسپتالوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس پر شدید بوجھ کا سبب بن رہی ہے۔ طبی ماہرین اور فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے موزوں ترین جگہ نہیں ہیں، کیونکہ وہاں کا ماحول پہلے ہی تناؤ کا شکار ہوتا ہے جو کہ کم عمر مریضوں کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، مناسب اور بروقت کمیونٹی سپورٹ یا ابتدائی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو مجبوراًاین ایچ ایس کے ایمرجنسی وارڈز میں لے جانے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موجودہ ہیلتھ کیئر سسٹم بچوں کی ذہنی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے اور اس میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس سنگین صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طبی تنظیموں اور بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اضافی وسائل فراہم کریں تاکہ سکولوں اور مقامی سطح پر ذہنی صحت کی کونسلنگ کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی سطح پر ہی بچوں کی راہنمائی اور علاج کا بندوبست کر دیا جائے تو ایمرجنسی وارڈز میں آنے والے ان تشویشناک کیسز میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، والدین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے رویے میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی تبدیلی پر کڑی نظر رکھیں اور بروقت ماہرینِ نفسیات سے رجوع کریں تاکہ کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔