World
جاپان کے وائرل سنیک ٹھنڈے پانی والے کپ نوڈلز کی کہانی
بی بی سی کے ٹوکیو کے نمائندے نے جاپان کے ایک نئے اور منفرد فوڈ ٹرینڈ کا تجربہ کیا ہے جس میں انسٹنٹ نوڈلز کو گرم پانی کے بجائے ٹھنڈے پانی سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ وائرل سنیک سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہو رہا ہے اور صارفین میں اس کی ترکیب کے حوالے سے شدید تجسس پایا جاتا ہے۔
جاپان اپنے منفرد اور جدید ترین فوڈ کلچر کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک الگ مقام رکھتا ہے، اور اب وہاں ایک ایسا نیا اور حیرت انگیز رجحان سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔ عام طور پر انسٹنٹ نوڈلز یا کپ نوڈلز کو تیار کرنے کے لیے ابلتے ہوئے یا انتہائی گرم پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جاپان میں اب ٹھنڈے پانی سے کپ نوڈلز بنانے کا ایک نیا اور انوکھا ٹرینڈ وائرل ہو رہا ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف مقامی صارفین بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
بی بی سی کی ٹوکیو میں موجود نامہ نگار کورومی موری نے حال ہی میں اس وائرل سنیک کا عملی طور پر تجربہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ آیا روایتی گرم پانی کے بغیر واقعی کپ نوڈلز اتنے ہی ذائقہ دار اور کھانے کے قابل بن سکتے ہیں یا نہیں۔ اس تجربے کے دوران انہوں نے اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا کہ ٹھنڈا پانی ڈالنے کے بعد مصالحے اور نوڈلز کی ساخت میں کس قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اس کا حتمی ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔
اس نئے فوڈ ٹرینڈ کے پیچھے اصل وجہ جاپان کے گرمیوں کے شدید موسم اور تیز رفتار طرز زندگی کو قرار دیا جا رہا ہے، جہاں کئی بار لوگ گرم کھانے کے بجائے کسی ایسی چیز کو ترجیح دیتے ہیں جو بنانے میں آسان ہو اور تازگی کا احساس دلائے۔ مینوفیکچررز بھی اب ایسے نوڈلز متعارف کرا رہے ہیں جن کی تیاری میں ٹھنڈے پانی کا استعمال ممکن ہوتا ہے اور برف کے ٹکڑے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
بی بی سی کی اس رپورٹ کے بعد دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین اس انوکھے تجربے پر بحث کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس تبدیلی کو ایک دلچسپ اور بہترین ایجاد قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ روایتی افراد کو ابھی بھی گرم پانی سے بننے والے نوڈلز زیادہ پسند ہیں۔ بہرحال، جاپان کا یہ وائرل سنیک ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی دنیا میں کوئی حد مقرر نہیں ہے۔