LIVE
Loading Breaking News...

کینساس مین کا وچیتا سٹی پر بغیر وارنٹ اے ایل پی آر کیمروں کے خلاف مقدمہ

News Image
کینساس کے ایک رازداری کے حامی نے وچیتا شہر پر بغیر وارنٹ کے خودکار لائسنس پلیٹ ریڈر سسٹمز کے استعمال پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ کیمرے کینساس کے آئین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
امریکی ریاست کینساس میں رازداری کے حقوق کے ایک سرگرم کارکن اور شہری نے وچیتا شہر کی انتظامیہ کے خلاف ایک اہم مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ قانونی چارہ جوئی شہر میں نصب کیے جانے والے اس خودکار لائسنس پلیٹ ریڈر یعنی اے ایل پی آر سسٹم کے خلاف کی گئی ہے جو بغیر کسی عدالتی وارنٹ کے شہریوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ مدعی کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی جاسوس ٹیکنالوجی کینساس کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اور شہریوں کی پرائیویسی کے منافی ہے۔ میسن گرومیٹ نامی اس شہری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک قانون پسند شہری ہیں لیکن اس طرح کی نگرانی نے انہیں ایک جال میں پھنسا دیا ہے جہاں ان کی ہر نقل و حرکت کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ وچیتا شہر کی انتظامیہ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان کیمروں کے دفاع میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس نظام کے ذریعے مطلوبہ گاڑیوں اور مشکوک افراد کا سراغ لگانے میں مدد ملتی ہے، جو کہ عوامی تحفظ کے مفاد میں ہے۔ تاہم، مدعی اور ان کے قانونی مشیروں کا اصرار ہے کہ عوامی تحفظ کے نام پر شہریوں کے آئینی حقوق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ امریکہ بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سرویلنس ٹیکنالوجی کے استعمال پر ایک بڑی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ اس معاملے کی سماعت آنے والے دنوں میں عدالت میں متوقع ہے جہاں دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔ اس فیصلے کا اثر نہ صرف کینساس بلکہ پوری امریکی ریاستوں میں اسمارٹ سٹی سرویلنس پالیسیوں پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس میں بنیادی سوال شہریوں کی آزادی اور ریاستی نگرانی کے درمیان توازن کا ہے۔