World
امریکہ کے ایران پر حملے، سیرک میں شادی کی تقریب نشانہ بنی
ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی ایرانی بندرگاہی شہر سیرک کے قریب امریکی فضائی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں کی زد میں ایک شادی کی تقریب بھی آ گئی تھی۔
تہران: ایران کے جنوبی بندرگاہی شہر سیرک کے قریب ہونے والے حالیہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تنازع کے دوران عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کے واقعات نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ حملے اس وقت کیے گئے جب سیرک کے قریب ایک شادی کی تقریب جاری تھی۔ امریکی بمباری کی وجہ سے اس پرامن اجتماع کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود معصوم شہری بھی اس کا نشانہ بن گئے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ اردگرد کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور تقریب میں شریک افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ پر کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کی طرف سے اس مخصوص واقعے کے حوالے سے فی الحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم خطے میں امریکی افواج کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور اس سے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ صورتحال تاحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور سکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی یا صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔