World
امریکہ ایران کشیدگی، تہران کی جوابی کارروائی کی دھمکی
امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے بعد تہران نے واشنگٹن کو شدید سزا دینے اور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ واشنگٹن کے ان تازہ ترین اقدامات نے پہلے سے ہی سلگتے ہوئے خطے کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب تہران نے امریکی حملوں پر انتہائی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اس جارحیت کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتے ہیں اور امریکی کارروائیوں کا تلافی طلب جواب دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
خطے کے دیگر ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں اور اردن پر بھی اس تنازعے کے اثرات پڑ رہے ہیں، جہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جنگ کے بادل چھٹنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔