Technology
سسکو پر مسلم اور عرب ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام
ٹیکنالوجی کمپنی سسکو کے ملازمین نے اسرائیلی فوج کو مصنوعات کی فروخت کے خلاف اندرونی سرگرمیوں کے بعد ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔ کمپنی پر مسلم اور عرب ورکرز کے لیے کام کا ماحول متعصبانہ بنانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی سسکو (Cisco) کو اس وقت ایک بڑے تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہے جب اس کے مسلم اور عرب ملازمین نے کمپنی کے اندر ایک انتہائی نامساعد اور متعصبانہ ماحول پیدا کیے جانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب کمپنی کے کچھ ملازمین نے اسرائیلی فوج کو جدید ٹیکنالوجی اور سسٹمز کی فروخت کے خلاف اندرونی طور پر احتجاجی مہم شروع کی اور اپنی آواز بلند کی۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کو ٹیکنالوجی کی فراہمی کے خلاف پرامن احتجاج اور داخلی فورمز پر رائے کا اظہار کرنے کے بعد انہیں انتظامیہ کی جانب سے شدید ردعمل اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ ورکرز کا مؤقف ہے کہ کمپنی میں مسلم اور عرب پس منظر رکھنے والے ملازمین کے لیے پروفیشنل ماحول کو مسلسل غیر محفوظ بنایا جا رہا ہے، جہاں انہیں ان کے بنیادی خیالات اور مؤقف کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارپوریٹ کلچر پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ اداروں کو اپنے ملازمین کے بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے، اور کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے گریز کرنا لازمی ہے۔ یہ معاملہ اب صرف ایک کمپنی کی داخلی پالیسی تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں اخلاقی اقدار اور ملازمین کے حقوق کی بحث کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
سسکو کی انتظامیہ کی طرف سے اس پورے معاملے پر اندرونی تحقیقات اور کمپنی کے اصولوں کے تحت اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے، تاہم متاثرہ ملازمین اور ان کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انڈسٹری کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے اثرات آنے والے دنوں میں دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ ملازمین اب اپنے اداروں کے اخلاقی فیصلوں پر کھل کر سوالات اٹھا رہے ہیں۔