Pakistan
ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کا مطالبہ، سیاسی زوال کی تردید
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پارٹی کے سیاسی زوال کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک بار پھر ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ نظام میں گورننس کے مسائل کو حل کرنے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ ترقی کے فوائد نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے حالیہ بیانات اور سیاسی رابطوں کے دوران کہی۔
اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ان تمام سیاسی مخالفین اور ناقدین کے دعوؤں کو بھی سختی سے مسترد کر دیا جو یہ تاثر دے رہے تھے کہ ایم کیو ایم کا سیاسی اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے یا پارٹی زوال کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی اتنی ہی مقبول ہے اور شہری علاقوں کے حقوق کی آواز بدستور بلند کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور وہ اپنے منشور سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملک کے بڑے صوبوں میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے کراچی اور دیگر شہری علاقے محرومی کا شکار ہیں، جس کا حل صرف نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ملک بھر میں آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے تمام محروم طبقات کی نمائندگی کرتی رہے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان کا یہ بیان ملک میں ایک بار پھر انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے حوالے سے بحث کو تازہ کر رہا ہے۔