LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملے اور تازہ صورتحال

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں کے تبادلے سے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک خطرناک موڑ اس وقت آیا جب مشرق وسطیٰ میں دونوں ممالک کے مابین فضائی حملوں کا تازہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد جن میں اطلاعات کے مطابق ایک شادی کی تقریب میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے، ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تہران کی جانب سے پہلے ہی سخت نتائج کی دھمکی دی گئی تھی اور اب ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی سخت وارننگ کے باوجود کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو اسے اس سے بھی زیادہ شدت سے نشانہ بنایا جائے گا، ایرانی فورسز اور اتحادی ملیشیا نے خطے میں امریکی اہداف پر حملے کر دیے۔ اس تازہ عسکری تصادم نے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور عالمی برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ کشیدگی قابو سے باہر ہو کر ایک وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ مختلف عالمی اخبارات اور نشریاتی اداروں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے اس تبادلے نے طویل عرصے سے سلگتی ہوئی خلیجی کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی سطح پر فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں نہ کی گئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہوں گی۔