Business
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 95 ڈالر سے اوپر، مشرق وسطیٰ کا تنازعہ
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کروڈ آئل کے سودے مہنگے ہونے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کے شعبے سے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جھڑپوں اور آبنائے ہرمز میں رسد کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں پچانوے ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ اس تازہ تنازعے نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل کی ترسیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی خطرات اور طویل مدتی فزیکل سپلائی کے درمیان پایا جانے والا فرق اب منڈی پر کھل کر اثر انداز ہو رہا ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کا کنٹریکٹ چار ڈالر اور چھیالیس سینٹ یا پانچ اعشاریہ دو فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ نوے ڈالر اور بائیس سینٹ فی بیرل پر بند ہوا۔ دوسری جانب نومبر کا برینٹ آئل بھی تین ڈالر اور ستانوے سینٹ یا چار اعشاریہ چار فیصد اضافے کے بعد چونانوے ڈالر اور چھیالیس سینٹ فی بیرل کی سطح پر دیکھا گیا۔ اس تیزی نے واضح کر دیا ہے کہ کس طرح خطے میں جنگی صورتحال یا عسکری کشیدگی فوری طور پر توانائی کی عالمی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین یہ کشیدگی طویل ہوتی ہے یا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو شدید خطرات کا سامنا رہتا ہے تو قیمتیں مزید بلندی کو چھو سکتی ہیں۔ عالمی معیشت جو پہلے ہی افراط زر کے دباؤ کا شکار ہے، تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے سے درآمدی لاگت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہی ہے۔ حکومتیں اور انرجی ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بحران کے ممکنہ اثرات سے نمٹا جا سکے۔