LIVE
Loading Breaking News...

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا بیان، عدلیہ شہری مرکز ہونی چاہیے

News Image
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کو مکمل طور پر شہری مرکز بننا چاہیے۔ انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کرنے کے علاوہ سپریم کورٹ کوئٹہ بلاک کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کا عدالتی نظام مکمل طور پر عوام دوست اور شہری مرکز ہونا چاہیے تاکہ عام آدمی کو انصاف کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران مختلف تقریبات اور اہم ملاقاتوں میں کیا۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کی اصل کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ عام سائلین کی ضروریات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرے۔ اس سلسلے میں بلوچستان ہائی کورٹ میں پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے جو سائلین کو جدید سہولیات فراہم کرے گا۔ اس دورے کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے نئے کوئٹہ بلاک کا بھی افتتاح کیا۔ اس نئے بلاک کے قیام کا مقصد عدلیہ کے انتظامی امور کو بہتر بنانا اور مقدمات کی بروقت سماعت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر وکلاء اور عدالتی عملے کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کو شفاف اور تیز رفتار بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ چیف جسٹس نے بار کونسل کے اراکین اور قانونی برادری کے کردار کو بھی سراہا اور زور دیا کہ وہ مقدمات کے بروقت فیصلے کے لیے معاون ثابت ہوں۔ اس کے علاوہ، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ برانچ رجسٹری میں بلوچستان بار کونسل کے ایک وفد کے ساتھ تفصیلی مشاورتی ملاقات بھی کی۔ اس ملاقات کی قیادت بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کی۔ ملاقات میں عدلیہ اور بار کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر غور کیا گیا، جبکہ ای فائلنگ کے نظام کو اپنانے پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی بالخصوص ای فائلنگ کے نفاذ سے نظامِ عدل میں شفافیت آئے گی اور عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔ وفد نے چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ قانونی برادری اس عمل میں عدلیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔