Business
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونا سستا، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات ہیں۔ تاہم، مالیاتی ماہرین کے ایک لیکویڈیٹی ماڈل کے مطابق طویل المدتی بنیادوں پر سونے کی قیمت 5,025 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی بلین مارکیٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کے باعث عالمی سطح پر سونے پر دباؤ بڑھا ہے، جس کے اثرات مقامی سطح پر بھی صرافہ بازاروں پر مرتب ہوئے ہیں۔ مختلف مالیاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں اور صرافہ ایسوسی ایشنز میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 800 روپے سے لے کر 3,500 روپے تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے خریداری کے رجحان میں بھی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی اور شرح سود بڑھانے کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کو امریکی ڈالر اور بانڈز کی جانب راغب کیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں سونے کے فی اونس نرخوں میں کمی آئی ہے کیونکہ شرح سود میں اضافے سے غیر منافع بخش اثاثہ ہونے کے ناطے سونے کی کشش کم ہو جاتی ہے۔ عالمی صرافہ مارکیٹ میں جاری اس مندی کی لہر کے باعث مقامی سطح پر بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور تاجر و سرمایہ کار محتاط انداز اپنا رہے ہیں۔ اس عارضی مندی کے باوجود طویل المدتی معاشی تجزیوں میں سونے کی قیمت میں بڑے اضافے کی پیشگوئی بھی کی جا رہی ہے۔ ایک اہم مالیاتی لیکویڈیٹی ماڈل کے مطابق مستقبل میں سونے کی فی اونس قیمت 5,025 ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی خدشات، افراط زر اور مرکزی بنکوں کی پالیسیوں میں طویل المدتی تبدیلیوں کے پیش نظر سونے کی مانگ میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے جو قیمتوں کو نئے ریکارڈ تک پہنچا دے گا۔ مقامی صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ فی الحال عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر سے منسلک ہے۔ اگرچہ اس وقت سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور خریداروں کے لیے یہ ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتا ہے، تاہم سرمایہ کار بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی پیش رفت اور امریکی مرکزی بینک کے حتمی فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی وضع کی جا سکے۔