Business
پاکستان میں ایل این جی کا بحران اور ممکنہ بلیک آؤٹ
مہنگی لیکوئفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی کھیپ کو مسترد کیے جانے کے نتیجے میں ملک بھر میں توانائی کے بحران میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صنعتی اور گھریلو صارفین کو مزید بجلی کے تعطل اور بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان میں توانائی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ حکام کی جانب سے بین الاقوامی منڈی میں مہنگی داموں ملنے والی لیکوئفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی کھیپ کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں گیس اور بجلی کی فراہمی کے نظام پر شدید دباؤ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں مزید بلیک آؤٹ اور طویل اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی ایندھن کی بلند قیمتوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے دباؤ کی زد میں ہے، اور اس صورتحال میں اضافی اور مہنگا ایندھن درآمد کرنا معیشت کے لیے مزید بوجھ بن سکتا تھا۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر توانائی کی سپلائی لائنوں اور آبنائے ہرمز جیس اہم تجارتی گزرگاہوں میں تعطل کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے ایندھن کی درآمدات مزید مہنگی اور مشکل ہوتی جا رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس قسم کے خلل کی وجہ سے پاکستان کے ایندھن کے درآمدی بل میں اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس سے توانائی کا پورا شعبہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اسپاٹ کارگو اور متبادل ذرائع سے گیس حاصل کرنے کے لیے ٹینڈرز بھی جاری کیے گئے ہیں، لیکن عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مسابقت ملکی حکام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔
صعنتی شعبے نے اس تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ گیس اور بجلی کی طویل بندش سے برآمدی صنعتوں کا پہیہ رک جانے کا خطرہ ہے۔ کارخانوں اور فیکٹریوں کو مطلوبہ توانائی نہ ملنے کے باعث پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، جو پہلے ہی ملکی مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کے خلاف ہے۔ عام صارفین کے لیے بھی گھریلو سلنڈروں اور سوئی گیس کی فراہمی میں تعطل معمول بنتا جا رہا ہے، جس سے سردیوں کے آنے والے سیزن میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
حکومتی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع بالخصوص قابل تجدید توانائی اور مقامی گیس کے ذخائر کو فروغ دینے کی بات تو کی جا رہی ہے، تاہم فوری طور پر اس درآمدی بحران کا کوئی آسان حل نظر نہیں آ رہا۔ ماہرین کا تقاضا ہے کہ توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات فوری بنیادوں پر نافذ کی جائیں تاکہ ہر بار بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث عام عوام کو بلیک آؤٹ کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آنے والے ہفتوں میں صورتحال مزید نازک ہونے کا خدشہ ہے اور حکومت کے لیے ایندھن کے مالیاتی بحران سے نبرد آزما ہونا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔