World
اسرائیل کی لبنان میں فوجی توسیع، مقبوضہ علاقوں کا دورہ
بی بی سی کی ایک ٹیم نے اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ مقبوضہ لبنانی علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج ان علاقوں میں اپنے مورچے مضبوط کر رہی ہیں اور مسماری کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک ٹیم نے اقوام متحدہ کی امن فوج کے ساتھ مل کر مقبوضہ لبنانی علاقوں کا دورہ کیا ہے، جس دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مسلسل وسعت دی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کے حکام کے مطابق، اسرائیلی دستے نہ صرف لبنان کے اندر اپنے عسکری مورچوں کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ وہاں بڑے پیمانے پر مسماری کی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دورے نے خطے میں جاری کشیدگی اور زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کے سرحدی اور اندرونی علاقوں میں نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فورسز کی جانب سے عسکری انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مضبوطی کے کام تیزی سے جاری ہیں، جو طویل المدتی موجودگی کی غمازی کرتے ہیں۔ مقامی سطح پر ان کارروائیوں کے باعث انسانی بحران میں بھی شدت آ رہی ہے کیونکہ مسلسل مسماری اور تنازع کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بی بی سی کی اس رپورٹ نے بین الاقوامی برادری کی توجہ ایک بار پھر اس نازک صورتحال کی طرف مبذول کروائی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا لبنان کے اندر اس طرح مورچہ زن ہونا اور تعمیراتی و مسماری کے عمل کو جاری رکھنا علاقائی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا امن مشن ایسے تمام حالات میں انسانی امداد کی فراہمی اور صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے لیے فیلڈ میں موجود ہے تاکہ زمینی حقائق کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔