LIVE
Loading Breaking News...

ڈیمنشیا کی تشخیص میں تاخیر: برطانوی خاندانوں کو شدید مسائل کا سامنا

News Image
ڈیمنشیا کی تشخیص کے لیے مہینوں اور سالوں کا طویل انتظار متاثرہ خاندانوں کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین نے صحت کے نظام میں فوری بہتری لانے اور وسائل بڑھانے پر زور دیا ہے۔
سینکڑوں خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں اپنے پیاروں میں ڈیمنشیا کی تشخیص کروانے کے لیے مہینوں اور بعض اوقات برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ تشخیص میں ہونے والی یہ طویل تاخیر نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ جب تک درست تشخیص سامنے آتی ہے، اس وقت تک بیماری کی علامات مزید پیچیدہ ہو چکی ہوتی ہیں، جس سے علاج اور نگہداشت کے مراحل مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ موجودہ طبی نظام میں وسائل کی کمی اور عملے کی قلت کی وجہ سے مریضوں کو بروقت ریفرل اور اسکریننگ کی سہولیات نہیں مل پا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ہیلتھ کیئر کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جہاں بروقت علاج کسی بھی بیماری کے خلاف جنگ میں سب سے اہم قدم ہوتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ طبی ادارے اس معاملے کا فوری نوٹس لیں تاکہ تشخیص کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، عوامی سطح پر ڈیمنشیا کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے مزید فنڈز فراہم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے اور خاندانوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔