Health
مثانے کے کینسر کی پیشاب سے تشخیص - نیا طبی ٹیسٹ
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے مثانے کے کینسر کی تشخیص کے لیے ایک نئے پیشاب کے ٹیسٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ ابتدائی طبی نتائج کے مطابق یہ ٹیسٹ نوے فیصد سے زائد کیسز میں بیماری کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مثانے کے کینسر کی تشخیص کے لیے پیشاب کے ایک نئے اور جدید ٹیسٹ کے طبی تجربات کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج انتہائی امید افزا ہیں اور یہ ٹیسٹ نوے فیصد سے زائد مریضوں میں بیماری کی درست اور بروقت نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت کینسر کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ مثانے کا کینسر دنیا بھر میں ایک سنجیدہ طبی مسئلہ سمجھا جاتا ہے جس کی تشخیص اکثر تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ روایتی طریقوں میں پیچیدہ اور تکلیف دہ طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں جن سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس نئے پیشاب کے ٹیسٹ کے متعارف ہونے سے نہ صرف طبی عمل آسان ہو جائے گا بلکہ مریضوں کو تکلیف دہ مراحل سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کینسر کی جتنی جلدی تشخیص ہو جائے، علاج اتنا ہی مؤثر اور کامیاب ہوتا ہے۔ این ایچ ایس کی جانب سے اس ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں اسے عام طبی مراکز اور ہسپتالوں میں بھی باقاعدگی سے استعمال کیا جائے گا۔ اس سے ہزاروں مریضوں کو بروقت علاج کی سہولت مل سکے گی اور کینسر کے موذی مرض پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ طبی ماہرین اس پیشرفت کو کینسر کی تشخیص کی تاریخ میں ایک انقلاب قرار دے رہے ہیں۔