Sports
پریمئير لیگ سمر ٹرانسفر ریکارڈ، کلبوں نے تین ارب پاؤنڈ خرچ کر دیے
انگلش پریمئير لیگ کے کلبوں نے اس سمر ٹرانسفر ونڈو کے دوران تین ارب نوے کروڑ پاؤنڈ سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی ہے۔ اس ریکارڈ توڑ سرمائے کے بعد پریمئير لیگ نے مسلسل دوسرے سال تاریخ کا سب سے بڑا ٹرانسفر ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔
انگلش پریمئير لیگ (پی ایل) کے فٹبال کلبوں نے رواں سمر ٹرانسفر ونڈو کے دوران ایک بار پھر مالی لین دین کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے نیا تاریخ ساز ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب پریمئير لیگ کے سمر ٹرانسفر سیزن نے گزشتہ تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نئی بلندیاں چھوئیں۔ ذرائع اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق اس سال کلبوں کی جانب سے کھلاڑیوں کی خرید و فروخت پر کل اخراجات تین ارب انیس کروڑ اڑتالیس لاکھ برطانوی پاؤنڈ تک پہنچ گئے ہیں جو کہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں ایک ناقابل یقین اعداد و شمار ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انگلش پریمئير لیگ دنیا کی سب سے زیادہ مالیاتی طاقتور اور مقبول ترین لیگ بن چکی ہے۔ پریمئير لیگ کے بڑے اور روایتی کلبوں کے علاوہ درمیانے درجے کی ٹیموں نے بھی منڈی میں کھل کر سرمایہ کاری کی اور اپنی ٹیموں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مہنگے داموں نامور کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ منسلک کیا۔ اس بھاری بھرکم اخراجات نے نہ صرف انگلش فٹبال کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ٹرانسفر مارکیٹ کے روایتی رجحانات کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ فٹبال فینز اور تجزیہ کار اس پیش رفت کو انتہائی حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ دنیا کے دیگر حصوں میں معاشی دباؤ کے باوجود انگلش فٹبال کی مالی طاقت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب اس ریکارڈ توڑ خرچ کے بعد کلبوں پر مالیاتی ضابطوں اور فیئر پلے رولز کے تحت کارکردگی دکھانے کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، کیونکہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد شائقین اور انتظامیہ کی توقعات بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ آنے والے سیزن میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ اتنے مہنگے کھلاڑی اپنی ٹیموں کے لیے کتنے سودمند ثابت ہوتے ہیں اور کیا پریمئير لیگ کی یہ مالی برتری مستقبل میں بھی برقرار رہ پاتی ہے یا نہیں۔