World
ہانگ کانگ: جوشوا وانگ کا غیر ملکی سازش کا اعتراف
ہانگ کانگ کے معروف سیاسی کارکن جوشوا وانگ نے قومی سلامتی کے قانون کے تحت غیر ملکی سازش کے الزام میں اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ اٹھائیس سالہ وانگ پہلے ہی دیگر ریاست مخالف الزامات کے تحت قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
ہانگ کانگ کے ممتاز اور زیر حراست سیاسی کارکن جوشوا وانگ نے عدالت میں ایک اہم پیش رفت کے دوران غیر ملکی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اٹھائیس سالہ جوشوا وانگ اس سے قبل بھی بیجنگ کی جانب سے نافذ کردہ متنازعہ قومی سلامتی قانون کے تحت بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات میں جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس نئے جرم کے اعتراف سے ان کی قید کی مدت میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جوشوا وانگ ہانگ کانگ کی تحریک جمہوریت کے نمایاں ترین چہروں میں شامل رہے ہیں اور انہوں نے ماضی میں متعدد احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ ہانگ کانگ میں نافذ ہونے والے قومی سلامتی قانون کو بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے جمہوری آزادیوں کو سلب کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب ہانگ کانگ اور بیجنگ کے حکام کا موقف رہا ہے کہ یہ قوانین خطے میں امن، استحکام اور ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ مقدمے کی اس تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر ہانگ کانگ کے عدالتی نظام اور سیاسی صورتحال کو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔