Health
خواتین کا آن لائن مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون خریدنے کا انکشاف
طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نسخہ کے حصول میں دشواری کے باعث خواتین مردوں کا روپ دھار کر آن لائن ٹیسٹوسٹیرون خریدنے پر مجبور ہیں۔ بعض خواتین میں ہارمون کی یہ مقدار محفوظ حد سے بارہ گنا زیادہ پائی گئی ہے۔
جدید طبی تحقیقات اور ماہرین صحت کے مطابق خواتین کو ادویات کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے ایک خطرناک رجحان سامنے آ رہا ہے۔ برطانیہ اور دیگر ممالک میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بہت سی خواتین قانونی نسخے کے حصول میں دشواری کے باعث آن لائن پلیٹ فارمز کا رخ کر رہی ہیں اور مردوں کے روپ میں ٹیسٹوسٹیرون خریدنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال خواتین کی صحت کے لیے انتہائی تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرِ مینوپوز اور خواتین کی صحت کے امور کی ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی کئی خواتین کا معائنہ کیا ہے جو اس غیر قانونی اور غیر محفوظ طریقے سے ہارمون حاصل کر رہی تھیں۔ ان خواتین کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح عام اور محفوظ حد سے بارہ گنا تک زیادہ پائی گئی ہے، جو صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون جیسے طاقتور ہارمون کا بغیر ڈاکٹر کی نگرانی اور باقاعدہ نسخے کے استعمال کرنا خواتین میں مختلف اندرونی پیچیدگیوں، دل کے امراض، جگر کے مسائل اور دیگر طبی خرابیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کر دیا ہے جہاں خواتین کو مینوپوز اور اس سے جڑے مسائل کے علاج کے لیے درکار ہارمونل تھراپی تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکام اور متعلقہ اداروں کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ خواتین کو محفوظ طریقے سے طبی مشورے اور ضروری ادویات باآسانی فراہم کی جا سکیں، تاکہ وہ اس قسم کے خطرناک اقدامات سے گریز کریں۔