LIVE
Loading Breaking News...

شام کا اسرائیل پر تحمل: ممکنہ خطرات اور سیاسی اثرات

News Image
دمشق کی جانب سے اسرائیل کے معاملے میں محتاط اور محدود رویہ اختیار کرنے سے خطے میں اسرائیلی مداخلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے شوام کا اپنی حکومت اور حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بھی متزلزل ہونے کا خدشہ ہے۔
شام کی جانب سے اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں محتاط اور محدود ردعمل ظاہر کرنے کا فیصلہ ملکی سلامتی کے لیے نئے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق، دمشق کا یہ رویہ بظاہر کسی بڑی جنگ سے بچنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے طویل المدتی منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ جب کسی ریاست کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں یا حملوں کا موثر جواب نہیں دیا جاتا، تو اس سے مخالف فریق کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مزید علاقائی تجاوز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس پالیسی کا ایک اور سنگین نقصان شامی عوام کے اندر پایا جانے والا بڑھتا ہوا اضطراب ہے۔ ملک طویل عرصے سے اندرونی بحرانوں اور خانہ جنگی کا شکار ہے، ایسے میں عوام اپنی حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ملکی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گی۔ جب حکومتی سطح پر کوئی مضبوط اقدام دکھائی نہیں دیتا، تو عام شہریوں کا ریاستی مشینری اور فیصلہ سازوں پر سے اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔ اس سے اندرونی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو پہلے ہی سے کمزور معیشت اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ دوسری جانب، خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ شام اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لے۔ محض خاموشی یا روایتی سفارتی بیانات اب دشمن کی جارحیت کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اگر دمشق نے اپنی پالیسیوں میں جارحانہ دفاع کو شامل نہ کیا، تو اس کے ملک کی سالمیت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ شامی قیادت عوامی امنگوں اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور موثر حکمت عملی اپنائے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔