LIVE
Loading Breaking News...

ہانگ کانگ: جوشوا وانگ کا قومی سلامتی مقدمے میں اعترافِ جرم

News Image
ہانگ کانگ کے نمایاں جمہوریت پسند کارکن جوشوا وانگ نے بیجنگ کے نافذ کردہ قومی سلامتی کے قانون کے تحت ایک اور مقدمے میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس مقدمے کے تحت انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہانگ کانگ کے نامور اور سرکردہ جمہوریت پسند کارکن جوشوا وانگ نے بیجنگ کی طرف سے نافذ کردہ متنازعہ قومی سلامتی کے قانون کے تحت دائر کیے گئے ایک اور اہم مقدمے میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ پیشرفت ان کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اس نئے مقدمے کے نتیجے میں جوشوا وانگ کو عمر قید تک کی طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کے وکیلوں اور حامیوں کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ جوشوا وانگ ہانگ کانگ کی سیاست میں ایک جانی پہچانی پہچان رکھتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی شہر میں ہونے والے بڑے سیاسی اور جمہوری مظاہروں کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل رہے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے شہر کے اندر اور باہر ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور انہیں فروغ دیا جو بیجنگ حکومت کے نافذ کردہ سخت سکیورٹی قوانین کے منافی تھیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں جرم کا اعتراف کرنے کے بعد عدالتی کارروائی کا اگلا مرحلہ سزا کے تعین پر مرکوز ہوگا، جہاں استغاثہ اور دفاعی ٹیم اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں سال 2020 کے وسط میں نافذ ہونے والے قومی سلامتی کے قانون کے بعد سے متعدد سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ بیجنگ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون خطے میں امن و امان، استحکام اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے، جب کہ دوسری جانب اندرون اور بیرونِ ملک منصفانہ سوسائٹیز اس قانون کو اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کو دبانے کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ جوشوا وانگ کا یہ مقدمہ اور اس میں ہونے والا اعترافِ جرم ہانگ کانگ کے سیاسی مستقبل اور قانونی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔