World
جرمنی کا انتباہ: روس یوکرین کی حمایت پر ہائبرڈ حملے کر سکتا ہے
جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی حمایت کی پاداش میں مغربی ممالک کے خلاف ہائبرڈ حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ خدشات لیپزگ ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ایک مشکوک ڈرون حملے کی تحقیقات کے بعد سامنے آئے ہیں۔
برلن: جرمن سیکیورٹی حکام اور وزارتِ داخلہ نے سنگین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس یوکرین کے لیے مغربی ممالک کی مسلسل حمایت کی وجہ سے ہائبرڈ اور خفیہ حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں لیپزگ ایئرپورٹ پر ایک مشکوک ڈرون حملہ ناکام بنایا گیا تھا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی جڑیں روسی کارروائیوں سے ملتی ہیں۔ جرمن حکام کے مطابق اس قسم کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ روایتی جنگ کے علاوہ اب ہائبرڈ جنگی حربوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایسی قوتیں کارفرما ہیں جو یورپ کے بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنانا چاہتی ہیں۔ لیپزگ ایئرپورٹ پر ہونے والے اس واقعے میں اگرچہ کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس نے جرمن سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کے طریقہ کار اور ہدف کے انتخاب سے واضح طور پر روسی انٹیلی جنس یا اس کے حامی عناصر کے ہائبرڈ آپریشنز کے نشانات ملتے ہیں جو یورپ میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جرمنی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اتحادی ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ شروع کر دیا ہے۔ برلن میں حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اہم تنصیبات، ایئرپورٹس اور توانائی کے ذرائع کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر رہے ہیں۔ نیٹو کے دیگر اراکین کو بھی اس حوالے سے خبردار کر دیا گیا ہے تاکہ وہ بھی کسی بھی ممکنہ تخریب کاری یا سائبر حملے کا بروقت مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان جاری کشیدگی اب میدانِ جنگ سے نکل کر سائبر اسپیس اور ہائبرڈ کارروائیوں تک پھیل چکی ہے۔ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ روایتی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ اس قسم کے غیر روایتی خطرات سے کیسے نمٹیں۔ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ساتھ یورپی رہنما اب اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔