Technology
ٹرمپ انتظامیہ اور اینتھروپک تنازع: جج کی جانب سے ناکافی شواہد پر ریمارکس
جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران ایک جج نے ریمارکس دیے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اینتھروپک کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دینے کے لیے ناکافی شواہد پیش کیے ہیں۔ اس فیصلے سے وفاقی حکومت کی جانب سے کمپنی کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی کے اقدام کو قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکہ میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے جڑے ایک اہم قانونی معاملے میں، جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران ایک جج نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس بات کے لیے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی 'اینتھروپک' (Anthropic) کو سپلائی چین کا خطرہ قرار دے سکے۔ بلومبرگ اور ایکسیوس سمیت مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب انتظامیہ کی جانب سے وفاقی محکموں کو اس کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت میں ہونے والی اس بحث نے ٹیکنالوجی اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان توازن پر ایک بار پھر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
سماعت کے دوران، جج نے انتظامیہ کے وکلاء سے سوال کیا کہ آیا ان کے پاس ایسے مصدقہ شواہد ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ کمپنی کی مصنوعات ملکی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، کسی بھی نجی ادارے کو اس طرح کے سنگین الزامات کے تحت بلیک لسٹ کرنے یا اس کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کے لیے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تک کی کارروائی میں عدالت کو یہ محسوس ہوا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے پیش کردہ دلائل اس فیصلے کا قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
اس فیصلے سے اینتھروپک کو عارضی طور پر بڑی قانونی ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے شعبے میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے اس سے قبل بھی حکومتی الزامات کی سختر تردید کی تھی اور اسے بلاجواز قرار دیا تھا۔ صنعت کے مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ آنے والے وقت میں دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے مابین تعلقات کے لیے ایک اہم نظیر قائم کرے گا۔