LIVE
Loading Breaking News...

تونس میں سول سوسائٹی پر بڑھتا ہوا دباؤ اور کریک ڈاؤن

News Image
ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تونس میں سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آ گئی ہے جس میں گرفتاریاں اور سزائیں شامل ہیں۔ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تیونس میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ملک میں حکومتی دباؤ اور کریک ڈاؤن کا دائرہ کار تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اس بات پر गहरी تشویش کا اظہار کیا ہے کہ تیونس کے اندر حکام کی جانب سے کارکنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران گرفتاریوں، عدالتی کارروائیوں اور تنظیموں کی معطلی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ملک میں موجود آزاد آوازوں کو دبانا اور سول سوسائٹی کے کردار کو محدود کرنا ہے۔ کارکنوں اور سول سوسائٹی کے اراکین پر مختلف الزامات کے تحت دباؤ ڈالا جا رہا ہے جس سے جمہوری اقدار اور بنیادی آزادیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے تیونس کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان جبر آمیز اقدامات کو روکے اور انسانی حقوق کے محافظوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سماجی دباؤ کے اس ماحول نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو سختم کر دیا ہے جس پر عالمی برادری کو بھی نوٹس لینا چاہئے۔