World
مائیلو یانپولس کی امریکہ سے بے دخلی اور انٹرویو
برطانوی دائیں بازو کے مبصر مائیلو یانپولس کو امریکی امیگریشن حکام کی طرف سے حراست میں لیے جانے اور ملک بدر کیے جانے کے بعد شدید خوف کا سامنا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں معروف انٹرویو نگار پیئرز مورگن سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
برطانوی دائیں بازو کے متنازع مبصر اور سیاسی تبصرہ نگار مائیلو یانپولس نے امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے۔ امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے حراست میں لیے جانے اور ملک بدر کیے جانے کے پورے واقعے نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، اور انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس سارے عمل کے دوران وہ سخت خوفزدہ تھے۔ اس اہم معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے مشہور زمانہ انٹرویو نگار پیئرز مورگن کے ساتھ تفصیلی نشست کی، جس میں انہوں نے حراست کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور اپنی موجودہ کیفیات کے بارے میں کھل کر بات کی۔ مائیلو یانپولس اپنی جارحانہ اور سخت سیاسی آراء کی وجہ سے پہلے بھی کئی بار تنازعات کی زد میں آ چکے ہیں، لیکن امریکی حکام کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انہیں حراست میں لیا گیا اور ملک بدر کیا گیا، اس نے ان کے اندر غیر یقینی اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس واقعے کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر آزادانہ اظہارِ رائے اور امیگریشن قوانین کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مائیلو کے مداح اور ناقدین دونوں ہی اس انٹرویو اور اس میں کیے جانے والے انکشافات کو بڑی حیرت اور تجسس کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ پیئرز مورگن کے شو میں اس بات پر بھی بحث کی گئی کہ کس طرح مغربی ممالک میں سیاسی شخصیات اور مبصرین کو سخت امیگریشن پالیسیوں اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مائیلو یانپولس کا یہ انٹرویو اس وقت میڈیا کی سرخیوں میں ہے اور اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے مزید کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ اس انٹرویو کے بعد ہونے والے مزید سیاسی اور سماجی مباحث سے لگایا جا سکے گا۔