LIVE
Loading Breaking News...

ایپل کا نقشہ جات کی ایپ میں جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر لیک امریکہ رکھنے کا فیصلہ

News Image
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے نقشوں میں جھیل اونٹاریو کا نام بدل دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد جھیل کا نام تبدیل ہو کر 'لیک امریکہ' ہو گیا ہے اور یہ اس نوعیت کا دوسرا بڑا اقدام ہے۔
عالمی شہرت یافتہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنی ڈیجیٹل نقشہ سازی کی ایپ (ایپل میپس) میں ایک بڑا اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے 'لیک امریکہ' رکھ دیا ہے۔ یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازع صدارتی حکم کی تعمیل میں کی گئی ہے، جس نے ملک اور دنیا بھر میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایپل اس حکم نامے پر عمل درآمد کرنے والی دوسری بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی بن گئی ہے، جس نے سرکاری پالیسی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کے ناموں کی تبدیلی تکنیکی اور جغرافیائی دائرہ کار میں کارپوریٹ اداروں کے سیاسی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ متنازع حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب جغرافیائی علامات اور مقامی شناختوں پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے تاریخی حقائق اور بین الاقوامی سرحدوں پر واقع قدرتی مقامات کی روایتی شناخت متاثر ہو سکتی ہے، بالخصوص جب جھیل کا ایک بڑا حصہ کواڈ اور کینیڈا کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ دوسری جانب، تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اکثر مقامی قوانین اور حکومتی احکامات کی روشنی میں اپنے پلیٹ فارمز پر جغرافیائی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہیں۔ ایپل کا یہ قدم بھی اسی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، تاہم صارفین اور بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کے خلاف ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ہے کہ اس جغرافیائی تبدیلی کے بعد دیگر ڈیجیٹل میپنگ پلیٹ فارمز اور کینیڈین حکام کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آئے گا۔