World
شام کا خفیہ ایٹمی رییکٹر: آئی اے ای اے کا بشار الاسد دور پر انکشاف
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ شام نے صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں دیر الزور کے مقام پر ایک خفیہ ایٹمی رییکٹر تعمیر کیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق دمشق حکام نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس جوہری مواد اور تنصیبات سے متعلق معلومات چھپائیں۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (آئی اے ای اے) نے ایک اہم اور چونکا دینے والے انکشاف میں بتایا ہے کہ شام نے سابق صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں ملک کے علاقے دیر الزور میں ایک خفیہ ایٹمی رییکٹر تعمیر کیا تھا۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق دمشق انتظامیہ نے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے جوہری مواد، تنصیبات اور سرگرمیوں سے متعلق تمام معلومات کو دنیا سے پوشیدہ رکھا اور ادارے کو بروقت رپورٹ نہیں کیا۔ عالمی برادری کے لیے یہ انکشاف انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شام کا یہ خفیہ جوہری پروگرام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حفاظتی ضوابط کی صریح خلاف ورزی پر مبنی تھا۔ ماضی میں بھی اس تنصیب کے حوالے سے مختلف عالمی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں لیکن اب باضابطہ طور پر یو این واچ ڈاگ نے تصدیق کی ہے کہ وہاں ایٹمی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خفیہ منصوبے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور اس معاملے پر مزید بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں جوہری پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
شام کی طرف سے اس وقت اس رپورٹ پر کوئی فوری اور مفصل ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں دمشق ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ بشار الاسد کے دورِ حکومت میں اس طرح کے خفیہ اقدامات نے شام کو عالمی سطح پر مزید تنہا کر دیا تھا۔ اب جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ اس معاملے پر سختی سے نوٹس لے رہا ہے، آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی سطح پر اس مسئلے پر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے تاکہ خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔