LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے ایران پر تازہ حملے: خطے میں کشیدگی میں اضافہ

News Image
امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحل پر نئے فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں کئی مقامات پر زور دار دھماکے سنے گئے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر نئے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایران کے ساحلی علاقوں میں کئی مقامات پر یکے بعد دیگرے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان میں ان کارروائیوں کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم حملوں کے اہداف اور نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی ان رپورٹس نے بھی تشویش پیدا کر دی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی کسی جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ اردن میں موجود کسی بھی امریکی اڈے پر حملہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہاں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ پروپیگنڈا خطے میں افراتفری پھیلانے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری اس تازہ کشیدگی نے عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایران کی جانب سے ابھی تک ان حملوں کے ردعمل میں کسی بڑی فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن ایرانی سرکاری میڈیا نے ان حملوں کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ سفارتی سطح پر دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ آئندہ چند گھنٹے اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں کہ آیا یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا سفارتی کوششوں کے ذریعے اس پر قابو پا لیا جاتا ہے۔ مزید برآں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بھی مشرق وسطیٰ کی اس نازک صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام اس وسیع تر پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کے تحت وہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عسکری دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ایران کی جانب سے مستقبل میں کیا جانے والا ردعمل اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا یہ محاذ آرائی صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے گی یا اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔ تاحال صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور تمام نظریں خطے میں جاری غیر معمولی نقل و حرکت پر جمی ہوئی ہیں۔