Business
امریکہ ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال سے طویل المدتی سپلائی میں خلل کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری جھڑپیں ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد تاجروں اور سرمایہ کاروں میں اس بات کا شدید خدشہ پایا جاتا ہے کہ اس طویل تنازع کی وجہ سے تیل کی عالمی سپلائی طویل عرصے تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل تیل کی بازگشت بھی شروع ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا یہ نیا باب عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکی مارکیٹ کے بند ہونے کے دوران وال اسٹریٹ کے اشاریوں میں بھی گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا جہاں دوسری جانب ٹیسلا کے حصص میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ بھی رپورٹ ہوا۔ تاہم توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز سب سے زیادہ ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی توانائی کے محاذ پر ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کو جنم دے دیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو تیل کی سپلائی کے روٹس بند ہونے یا ان میں رکاوٹ آنے سے قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے تجارتی مراکز اور توانائی کے ادارے اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔