LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبے: پیپلز پارٹی کا آئینی عمل پر زور

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری سیاسی بحث پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی نیا انتظامی یونٹ صرف آئینی عمل کے ذریعے ہی بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ میں بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ دہرایا ہے۔
اسلام آباد اور کراچی میں سیاسی حلقوں کے درمیان نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی نئے صوبے کا قیام صرف اور صرف پارلیمنٹ کے ذریعے طے شدہ آئینی عمل کے تحت ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس حساس نوعیت کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے آئین اور قانون کی پاسداری کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے صوبے کی تقسیم کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے خیالات وفاق اور صوبائی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کو بہتر بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔ ایم کیو ایم کے مطابق موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ صوبے کے اندر نئے یونٹس بنائے جائیں۔ پارٹی قیادت نے سیاسی زوال کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کے حقوق اور بنیادی مطالبات کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اس سیاسی ڈیڈ لاک کے بعد ملکی سطح پر ایک بار پھر مالیاتی سیاست، وفاقیت اور انتظامی بہتری کے حوالے سے مباحثے شروع ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام بظاہر انتظامی بہتری کا معاملہ ہے لیکن اس کے پیچھے گہرے سیاسی اور مالیاتی مفادات وابستہ ہیں۔ آئینی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا نہیں کرتی ہیں، اس قسم کے متنازع مطالبات سے ملک میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔