LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی چیلنجز - نیکسورا نیوز اردو

News Image
پاکستان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی ایرانی تصادم کے تناظر میں شدید سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسلام آباد نے اس مشکل صورتحال میں مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر خارجہ پالیسی کے معاملات میں ایک نازک توازن برقرار رکھنا اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملکی سطح پر معاشی اور سیاسی نوعیت کے سنگین مسائل درپیش ہیں، پاکستان کی یہ خواہش بھی برقرار ہے کہ اس کی سفارتی بلند پروازیں ان اندرونی مشکلات کی نذر نہ ہوں۔ چیتھم ہاؤس کی جانب سے بھی اس امر پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے خارجہ امور کے عزائم اپنے ہی ملک کے گوناگوں چیلنجز کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک، اسلام آباد کے پالیسی سازوں کو اندرونی استحکام کے ساتھ ساتھ بیرونی محاذ پر بھی انتہائی پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ ترین کشیدگی نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر پرامن مذاکرات کی راہ اپنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انادولو ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق، اس تمام تر جغرافیائی سیاسی اتھل پُھل کے باوجود اسلام آباد مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ امریکی ایرانی مخاصمت کے پس منظر میں پاکستان نے اقوام متحدہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ خطے میں سفارتی کوششوں کو مزید تقویت دے تاکہ کسی بھی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔ عرب نیوز کی اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی جارحیت کا حصہ بننے کے بجائے علاقائی استحکام اور بات چیت کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال میں اس قسم کی سفارتی پگڈنڈی پر چلنا کسی طناب کھینچنے کے کھیل سے کم نہیں ہے، جہاں ذرا سا توازن بگڑنے سے گہرے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔