World
روس کی ایران کے لیے حمایت، پوتن کا امریکہ کو چیلنج
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے ساتھ مضبوط اتحاد کا اعادہ کرتے ہوئے امریکہ کے خلاف باضابطہ حمایت کا یقین دلایا ہے۔ یہ بیانات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کے سامنے دیے گئے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جاری کشیدگی اور امریکی حملوں کے تناظر میں تہران کے ساتھ تذویراتی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کرغزستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے دوران روسی صدر نے بین الاقوامی فورم پر واضح کیا کہ ماسکو اس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یکطرفہ امریکی پالیسیوں اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی طاقتوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد عالمی سطح پر نئی صف بندیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس موقع پر علاقائی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کو چیلنج کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پوتن کا یہ بیان ماسکو اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور سیاسی تعاون کی عکاسی کرتا ہے، جس سے خطے میں توازن تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
ادھر ایرانی قیادت نے بھی روس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیاسی اور سفارتی حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ مغربی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا ایرانی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحاد عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں کئی ممالک روایتی مغربی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔