LIVE
Loading Breaking News...

چینی یوآن کی قدر اور معاشی صورتحال: تازہ ترین مالیاتی رپورٹ

News Image
چین نے ملک میں کمزور گھریلو طلب کے تناظر میں بڑھتے ہوئے یوآن کی قدر کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی کرنسی کے ریفرنس ریٹ میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔
بیجنگ: چین نے ملک کے اندر کمزور گھریلو طلب کے باعث معاشی منظر نامے پر منڈلاتے ہوئے خدشات کے پیش نظر بڑھتے ہوئے چینی یوآن کی قدر کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق چین میں اندرونی طلب کی سست روی ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے، جو ملکی معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی حکام نے کرنسی مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے اپنی پالیسیوں کو ترتیب دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن (USD/CNY) کا ریفرنس ریٹ 6.7829 مقرر کیا ہے، جبکہ اس سے قبل یہ ریٹ 6.7809 تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معمولی ردوبدل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک مارکیٹ میں کسی بھی غیر متوقع اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملکی برآمدات اور مجموعی معاشی استحکام کو نقصان نہ پہنچے۔ دوسری جانب، عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے رجحانات بھی اس عمل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکی بانڈز کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے ڈالر کو کچھ سہارا ملا ہے، جس نے عالمی سطح پر کرنسیوں کے تبادلے کی شرح کو متاثر کیا۔ تاہم، چینی حکام کی جانب سے یوآن کو لگام دینے کے اس اقدام کو سرمایہ کار اور معاشی تجزیہ کار بڑی احتیاط سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ چین کی مجموعی مالیاتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں چین کی اقتصادی پالیسیاں گھریلو طلب میں اضافے اور کرنسی کے استحکام کے گرد گھومتی رہیں گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک طرف افراط زر اور طلب کے مسائل سے نمٹا جائے اور دوسری طرف بین الاقوامی منڈی میں یوآن کی قدر کو متوازن رکھا جائے تاکہ ملکی تجارت کو کسی بڑے دھچکے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔