LIVE
Loading Breaking News...

خان کار ٹیکس اسکام میں مجرم قرار، گاڑی کی ملکیت سے انکار

News Image
سٹی ہال کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ نسان مائیکرا نامی متنازع گاڑی نہ تو میئر کی ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ فار لندن کی ملکیت ہے۔ خان کو اس گاڑی سے متعلق ٹیکس معاملے میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
برطانیہ میں ایک دلچسپ اور پیچیدہ قانونی معاملہ سامنے آیا ہے جہاں خان نامی شخص کو ایک کار ٹیکس اسکام کے سلسلے میں مجرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ وہ مسلسل اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ زیرِ بحث گاڑی ان کی ملکیت ہے۔ یہ معاملہ ایک چھوٹی گاڑی نسان مائیکرا سے جڑا ہوا ہے جس پر مبینہ طور پر کار ٹیکس کی ادائیگی میں گڑبڑ اور قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت اور متعلقہ محکموں کی جانب سے اس معاملے پر تحقیقات کی گئیں، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ سامنے آیا۔ دوسری جانب سٹی ہال کے اعلیٰ حکام اور انتظامیہ نے اس پورے تنازع پر وضاحت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متنازع نسان مائیکرا گاڑی کا تعلق نہ تو شہر کے میئر سے ہے اور نہ ہی یہ ٹرانسپورٹ فار لندن (TfL) کے زیرِ ملکیت یا زیرِ استعمال ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کو بلاوجہ عوامی عہدیداران اور سرکاری اداروں کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا، جب کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس باضابطہ بیان کے بعد معاملے میں مزید ابہام پیدا ہو گیا ہے کہ اگر گاڑی میئر یا ٹرانسپورٹ ادارے کی نہیں ہے، تو اصل ذمہ دار کون ہے۔ خان کے وکلاء اور حامیوں کا موقف ہے کہ ان کے مؤکل کو اس معاملے میں بلاوجہ گھسیٹا گیا ہے اور وہ اس گاڑی کے مالک نہیں ہیں، اس لیے ان پر عائد کردہ جرمانہ یا سزا قطعی طور پر ناانصافی پر مبنی ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس میں گاڑی کی درست رجسٹریشن اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بغیر حتمی فیصلہ صادر کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس مقدمے کے مزید قانونی پہلوؤں پر غور کیے جانے کا امکان ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ کیا خان اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے یا نہیں، اس کا فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کر دیا ہے، جس پر عام شہریوں اور میڈیا کی طرف سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔