LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی، آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک میں نئے حملے

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فضائی اور میزائل حملوں کے تبادلے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکی بمباری سے آبنائے ہرمز کے قریب ایک شادی کی تقریب کونشانہ بنایا گیا جس کے بعد تہران نے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جب دونوںممالک کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں کا نیا اور شدید سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ کارروائیوں نے خلیجی خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک پرامن شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے دونوں حریف ممالک کے درمیان جاری سرد جنگ کو ایک خونریز مسلح تصادم میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایران کی مسلح افواج نے اس امریکی حملے کے فوری جواب میں جوابی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ تہران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز نے خلیجی خطے میں موجود مختلف تزویراتی مقامات کو نشانہ بنایا جن میں کویت، بحرین اور اردن کے علاقے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ ان جوابی حملوں کے بعد خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اتحادی ممالک میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ فضائی حدود بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ اس نئی کشیدگی کے بعد عالمی رہنماؤں کی جانب سے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے اور خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے واپس لایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی یا سفارتی کوششیں شروع نہ کی گئیں تو اس تصادم کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز بالخصوص تیل کی ترسیل پر انتہائی منفی مرتب ہوں گے۔ اس وقت پوری دنیا کی توجہ آبنائے ہرمز اور خلیجی ریاستوں پر مرکوز ہے جہاں کسی بھی وقت اگلے بڑے معرکے کا خدشہ موجود ہے۔