World
مغربی کنارے میں مساجد پر حملے اور عبادت گزاروں پر تشدد
فلسطینی حکام کے مطابق رواں سال کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کی جانب سے 13 مساجد کی بے حرمتی کی جا چکی ہے۔ حالیہ واقعات میں عبادت گزاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں مذہبی مقامات بالخصوص مساجد پر اسرائیلی فورسز اور پرتشدد آباد کاروں کے حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلسطینی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے دوران اب تک مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں کم از کم 13 مساجد کی بے حرمتی کی گئی ہے یا انہیں براہ راست نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران متعدد مقامات پر عبادت گزاروں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں مساجد کے اندر عبادت سے روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد مقامی فلسطینی آبادی کی مذہبی آزادی کو سلب کرنا اور انہیں خوفزدہ کرنا ہے۔ ایسے وقت میں جب خطے پہلے ہی شدید کشیدگی اور تنازعات کی زد میں ہیں، عبادت گاہوں پر ہونے والے ان حملوں نے حالات کو مزید دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جا سکے اور خطے میں مذہبی منافرت کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ فلسطینی وزارتِ اوقاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر مساجد کے تقدس کو پامال کرنے کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو حالات مزید سنگین رُخ اختیار کر سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری قابض انتظامیہ پر عائد ہوگی۔