LIVE
Loading Breaking News...

یونان اور اسرائیل کا دفاعی معاہدہ اور آخিলیز شیلڈ کی اہمیت

News Image
یونان اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری صف بندی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ معاہدہ دراصل مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پس منظر میں علاقائی اتحادوں کی نئی تشکیل کا حصہ ہے۔
یونان اور اسرائیل کے درمیان عسکری اور دفاعی تعاون میں حالیہ تیزی نے بین الاقوامی سطح پر مبصرین کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں جو خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی اور تزویراتی صف بندیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کی صورتحال پر پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں یہ دفاعی شراکت داری انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔یونان کی جانب سے اسرائیلی عسکری ٹیکنالوجی، خصوصاً 'آخিলیز شیلڈ' جیسے جدید دفاعی سسٹمز میں سرمایہ کاری کرنے اور دلچسپی ظاہر کرنے کی بنیادی وجہ اپنی فضائی اور زمینی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ یوروپی یونین کے اس اہم رکن ملک کی جانب سے دفاعی شعبے میں اسرائیل پر یہ اعتماد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے پروان چڑھنے والے قریبی تعلقات کا تسلسل ہے۔ اس تعاون کے ذریعے یونان اپنے خطے میں امن و امان اور دفاعی خودمختاری کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی معاہدے محض دو ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی تجارت تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران اور دیگر علاقائی چیلنجز کے پیش نظر اسرائیل کے ساتھ عسکری اتحاد بنانا یونان کے لیے ایک اہم تزویراتی فیصلہ ہے۔ اس اشتراک سے نہ صرف دفاعی صنعت کو فروغ مل رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ اور عسکری تربیت کے شعبوں میں بھی تعاون مزید گہرا ہو رہا ہے۔ آنے والے وقت میں اس نوعیت کے دفاعی معاہدے خطے کی مجموعی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، جس پر عالمی طاقتیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔