LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: باپ نے قرض لے کر لاپتہ بیٹے کی تلاش میں پیدل سفر کیا

News Image
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ایک غریب باپ نے تیرہ ڈالر ادھار لے کر اپنے لاپتہ بیٹے کی تلاش میں کئی دنوں تک پیدل سفر کیا۔ طلق سدا نامی اس شخص کو مایوسی اور غصے کا سامنا ہے کیونکہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
نیپال میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے جہاں بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان پہنچایا ہے، وہیں کئی خاندانوں کے لیے یہ سانحہ ابدی جدائی اور صبر آزما انتظار کا باعث بن گیا ہے۔ ایسے ہی متاثرین میں شامل ایک غریب اور بے بس باپ طلق سدا کی کہانی دل کو دہلا دینے والی ہے، جو اپنے لاپتہ بیٹے کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ وسائل کی شدید کمی اور حکومتی امداد کے فقدان کے باوجود اس باپ کے قدم نہیں ڈگمگائے اور اس نے اپنے پیارے کو ڈھونڈنے کے لیے نامساعد حالات کا مقابلہ کیا۔ حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے والے طلق سدا نے اپنے بیٹے کی تلاش کی خاطر سفر شروع کرنے کے لیے محض تیرہ ڈالر (قریبی مقامی کرنسی کے مساوی رقم) ادھار لیتے۔ یہ معمولی سی رقم اس طویل اور کٹھن سفر کے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی تھی، اس لیے اسے سیلاب سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں میلوں پیدل سفر کرنا پڑا۔ دریاؤں کے پل ٹوٹ چکے تھے، سڑکیں ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی تھیں اور ہر طرف تباہی کا منظر تھا، لیکن ایک باپ کا جذبہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ کئی دنوں کی اس تھکا دینے والی جستجو اور شدید جسمانی مشقت کے بعد بھی جب بیٹے کا کوئی سراغ نہیں ملا تو طلق سدا کے دل میں مایوسی، غصہ اور بے بسی کے جذبات گھر کرنے لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی بے توجہی اور ریسکیو اداروں کی سست روی کی وجہ سے شدید غصے میں ہیں کیونکہ غریب لوگوں کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔ وہ اس امید کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹک رہے ہیں کہ شاید ان کا لختِ جگر انہیں زندہ یا کم از کم کسی محفوظ مقام پر مل جائے۔ یہ دلخراش کہانی نیپال کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے، جہاں ہزاروں افراد کو بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ بھی جھیلنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نیپال کے دور دراز علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور لاپتہ افراد کے ورثا کو ریلیف فراہم کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ طلق سدا جیسے مجبور لوگوں کے درد میں کچھ کمی لائی جا سکے۔