World
غزہ ڈونر جیمز فرگی کی امریکہ حوالگی پر اہلیہ کا ردعمل
امریکہ کی جانب سے غزہ کے لیے امداد فراہم کرنے والے جیمز فرگی چیمبرز کی حوالگی کے مطالبے کے بعد ان کی اہلیہ نے اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔ جیمز فرگی اس وقت اسپین میں قید ہیں اور ان پر حماس کی مبینہ معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے غزہ کے ایک ممتاز ڈونر اور فلاحی کارکن جیمز 'فرگی' چیمبرز کی حوالگی کے مطالبے نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جیمز کی اہلیہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام دنیا بھر میں انسانی حقوق اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے ایک انتہائی خوفناک اور خطرناک روایت قائم کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ فلاحی مقاصد کے تحت دی جانے والی امداد کو اس انداز میں ہدف بنانا کسی بھی طرح منصفانہ عمل نہیں ہے۔
جیمز فرگی چیمبرز اس وقت اسپین میں قید کاٹ رہے ہیں، جہاں انہیں امریکی حکام کی فرمائش پر حراست میں لیا گیا ہے۔ امریکی تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ موصوف نے مختلف رفاہی تنظیموں کی آڑ میں مبینہ طور پر حماس کو مالیاتی یا دوسری نوعیت کی معاونت فراہم کی ہے۔ تاہم، جیمز کے حامیوں اور ان کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ وہ ہمیشہ سے محض انسانی ہمدردی کے تحت غزہ کے متاثرہ اور جنگ زدہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ان پر عائد کردہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ بالخصوص غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات میں سیاسی اور سلامتی کے قوانین کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے، جس کے دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس تمام عمل پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی بے گناہ فلاحی کارکن کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
اسپین کی عدالتوں میں جیمز فرگی کی حوالگی سے متعلق قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ان کے وکلاء اس فیصلے کے خلاف بھرپور قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے وکیلوں کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو اس حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے کہ آیا فلاحی امداد کا براہ راست تعلق کسی عسکری سرگرمی سے تھا یا نہیں۔ اس پورے تنازع نے عالمی سطح پر فلاحی اداروں اور ڈونرز کے لیے کام کرنے کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔