World
ایرانی مہیبہ کی کہانی: جنگ اور بمباری کے سائے میں زندگی
ایک ایرانی مہیبہ نے بیان کیا ہے کہ کس طرح امریکہ اور اسرائیل کی بمباری نے اس کی پرسکون ساحلی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہ رپورٹ جنگ کے ماحول میں عام شہریوں کو درپیش مشکلات اور خوف کی عکاسی کرتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات نے عام شہریوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک ایرانی مہیبہ نے حال ہی میں اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ کس طرح ان کی پرسکون اور سادہ ساحلی زندگی اس وقت تباہ ہو گئی جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بمباری کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس مہیبہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک عام اور پرامن زندگی گزار رہی تھیں، جہاں ان کا بنیادی ذریعہ معاش ماہی گیری تھا اور ان کے دن سمندر کے کنارے سکون سے گزرتے تھے۔ لیکن جنگ کی گھنگھور گھٹاؤں نے ان کے اس پرسکون ماحول کو ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل کر دیا ہے۔ جب طیاروں کی گھرج اور بمباری کی آوازیں ان کے ساحلی علاقوں تک پہنچیں، تو ان کا روزمرہ کا معمول یکسر بدل گیا۔ اب وہ ہر لمحہ خوف اور غیر یقینی صورتحال کے سائے میں جی رہی ہیں، جہاں نہ تو کل کا کوئی بھروسہ ہے اور نہ ہی امن کی کوئی امید۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے بلکہ ان کی ذہنی سکون کو بھی چھین لیا ہے۔ ماہی گیری جو کبھی ان کے لیے خوشی اور روزی روٹی کا ذریعہ تھی، اب خوف کے ماحول میں انجام دی جا رہی ہے۔ اس طرح کے واقعات جنگ کے ان بھیانک اثرات کو ظاہر کرتے ہیں جو میدان جنگ سے دور بسنے والے عام شہریوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ کے اسباب جو بھی ہوں، لیکن اس کا سب سے بڑا خمیازہ ہمیشہ عام شہریوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔