LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سندھ کی تقسیم کی مخالفت کا اعلان

News Image
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا کوئی تصور نہیں اور صوبے کا نقشہ تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے اصرار کیا کہ تمام اقدامات آئینی عمل کے تحت ہونے چاہئیں۔
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کی تقسیم کے تمام امکانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ کے عوام کو کوئی بھی نقشہ اور کوئی بھی سازش تقسیم نہیں کر سکتی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صوبائی اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک مباحثہ شروع کیا گیا، جس میں اراکین نے اس حساس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیاسی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام اور اس سے جڑے مالیاتی اور انتظامی امور پر بحث ملک بھر میں جاری مباحثوں کا حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس موقع پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک یا کسی بھی صوبے میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے آئینی عمل اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی بنائے جا سکتے ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے قومی اتفاق رائے اور آئینی تقاضوں کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما ندا کھुहرو اور دیگر رہنماؤں نے بھی زور دیا کہ سندھ کی تاریخی شناخت اور جغرافیائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں بھی نئے صوبوں اور گورننس ریفارمز کے حوالے سے سیمینارز اور مباحثے جاری ہیں۔ پشاور میں حالیہ ایک تعلیمی اور فکری ڈائیلاگ کے دوران طلباء اور ماہرین نے نئے صوبوں کے انتظامی فوائد اور مالیاتی سیاست پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری اور نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایک دیرینہ بحث ہے، جس کے معاشی اور سیاسی اثرات پر ملک بھر میں سنجیدہ مکالمے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر اس تازہ مباحثے نے صوبائی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں اتحادی اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کی تائید میں دلائل دے رہی ہیں، وہیں حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ صوبے کے اتحاد اور یکجہتی کے خلاف کسی بھی قسم کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید سیاسی گرما گرمی متوقع ہے کیونکہ ملک میں وفاقیت اور انتظامی بہتری کے حوالے سے اصلاحات کا عمل مسلسل زیر بحث ہے۔