LIVE
Loading Breaking News...

بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ، امریکی معیشت اور فیڈ پالیسی کا اثر

News Image
امریکہ کے معاشی اعداد و شمار کمزور آنے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں عارضی طور پر اضافہ دیکھا گیا اور یہ پینسٹھ ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ تاہم، مضبوط صارفین کے اخراجات کی وجہ سے فیڈرل ریزرو کے محتاط رویے کے باعث یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی۔
جمعرات کے روز امریکی معاشی نمو کے اعداد و شمار تخمینے سے کم آنے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی کریپٹو کرنسی بٹ کوائن نے عارضی طور پر پینسٹھ ہزار ڈالر کی حد کو عبور کر لیا۔ کریپٹو سلیٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ خبر شائع ہونے کے وقت بٹ کوائن چونسٹھ ہزار سات سو انیس ڈالر کے قریب ٹریڈ ہو رہا تھا۔ دن کے آغاز میں اس نے پینسٹھ ہزار اکہتر ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھوا جبکہ اس کی کم ترین سطح چھ ہزار ڈالر کے قریب ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی عام طور پر رسک اثاثوں کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے، لیکن اس بار صورتحال مختلف رہی۔ اس کی اہم وجہ امریکی صارفین کے اخراجات میں تسلسل ہے جو کہ مضبوط معاشی بنیادوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مضبوط صارفین کے اخراجات کی وجہ سے امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود میں کمی کے فیصلے مزید محتاط ہو گئے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق، مضبوط معیشت فیڈرل ریزرو کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح کو طویل عرصے تک بلند رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں بڑی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں اور مارکیٹ میں ایک بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسیوں کے لیے فوری طور پر ایک مستحکم تیزی کا رجحان بنانا مشکل ہو رہا ہے۔ مستقبل قریب میں مارکیٹ کے شرکاء کی نظریں آئندہ آنے والے معاشی اشاریوں اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہوں گی، جو کہ بٹ کوائن کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔